Dowries of the Prophet's Wives (Azwaj-e-Mutahirat): Mehr, Walima & Sunnah Guidance
How much was the Mehr of the Azwaj-e-Mutahirat? A detailed account of the dowries of the Prophet's blessed wives, the Walima customs, and what the Sunnah teaches about Mehr today.
Abu Al-Jilan Chishti
Certified Nikah Registrar · Legal Advisor

نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کا مہر تقریباً 500 درہم کے قریب تھا۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: 'رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج اور بیٹیوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش رکھا۔' اور یہ تقریباً 500 درہم بنتے ہیں۔ تاہم بعض ازواج کے نکاحوں میں خاص صورتیں بھی تھیں جن کا ذکر احادیث اور فقہی کتب میں ملتا ہے۔
ازواجِ مطہرات کے مختلف مہر
عام طور پر ازواجِ مطہرات کا مہر 500 درہم چاندی تھا، لیکن بعض کے نکاح میں خصوصی صورتیں تھیں:
ام المؤمنین سیدتنا ام حبیبہ رضی اللہ عنہا (Umm Habiba) کا مہر نجاشی بادشاہ نے ادا کیا۔ بعض روایات میں 4000 درہم یا 4000 دینار ذکر کیا جاتا ہے، جو دیگر ازواج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔
سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا (Safiyya bint Huyayy) کی آزادی کو ہی مہر قرار دیا گیا۔ یہ ایک انتہائی مبارک اور فضیلت والا نکاح تھا جس میں آزادی کی قدر سب سے بڑی دولت تھی۔
سیدتنا زینب رضی اللہ عنہا (Zaynab bint Jahsh) کے نکاح میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی حکم آیا، مگر مہر بھی ادا ہوا۔ یہ نکاح اسوہ حسنہ کے ساتھ ساتھ شریعت کی حکمت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
حضور ﷺ کی شہزادی کا مہر
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہزادی سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا مہر 400 مثقال چاندی تھا، جس کا وزن 150 تولے چاندی بنتا ہے۔
یہ گراموں کے حساب سے 1749.6 گرام یعنی تقریباً پونے دو کلو چاندی بنتی ہے۔ یہ مہرِ فاطمی آج بھی پاکستان میں سب سے مشہور اور معروف مہر ہے۔
ولیمہ کتنا کیا جاتا تھا؟
ولیمہ ہر نکاح میں ایک جیسا نہیں تھا۔ کچھ مثالیں:
کسی نکاح میں صرف کھجور، ستو، یا تھوڑا گوشت سے ولیمہ ہوا۔
سیدتنا زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں روٹی اور گوشت زیادہ اہتمام سے پیش کیا گیا۔
سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں کھجور، پنیر اور گھی جمع کرکے سادہ ولیمہ کیا گیا۔
یہ ثابت کرتا ہے کہ ولیمہ استطاعت کے مطابق، سادگی کے ساتھ ہونا سنت ہے۔
کم سے کم مہر کی شرعی مقدار
فقہِ احناف میں کم سے کم مہر 10 درہم ہے، جو تقریباً 30.618 گرام چاندی بنتی ہے۔
اس سے کم مہر مقرر کرنے کی صورت میں بھی دس درہم مہر ہی واجب ہوگا۔ یہ اس لیے ہے کہ عورت کی عزت اور نکاح کی شرعی حیثیت برقرار رہے۔
یاد رہے کہ مہر نہ اتنا کم ہو کہ بے وقعت لگے، اور نہ اتنا زیادہ کہ نکاح مشکل ہو جائے۔
خلاصہ
عام سنتی مہر: تقریباً 500 درہم (اکثر ازواجِ مطہرات کا مہر)
ام المؤمنین ام حبیبہ کا مہر: 4000 درہم یا 4000 دینار
حضرت فاطمہ الزہراء کا مہر: 400 مثقال چاندی (تقریباً 1749.6 گرام)
احناف میں کم از کم مہر: 10 درہم (تقریباً 30.618 گرام چاندی)
ولیمہ: استطاعت کے مطابق، سادگی کے ساتھ
نکاح آسان رکھنا اور مہر ادا کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔
English Summary — Dowries of the Prophet's Wives
The Prophet ﷺ set different Mehr amounts for his blessed wives, but the general amount for most of the Azwaj-e-Mutahirat was approximately 500 dirhams of silver.
Umm Habiba's Mehr was notably higher at approximately 4,000 dirhams or dinars, paid by the Negus of Abyssinia. Safiyya's freedom was itself her Mehr — a profoundly symbolic dowry. Zaynab's marriage was commanded by Allah, and Mehr was also given.
For his daughter Sayyida Fatimah (RA), the Prophet ﷺ fixed 400 mithqal of silver as Mehr — roughly 1,749.6 grams, or almost 1.75 kg of pure silver.
In Hanafi Fiqh, the minimum Mehr is 10 dirhams (approximately 30.6 grams of silver). Today, this is roughly PKR 9,000 to 10,500 depending on the silver rate.
If you are preparing your Nikah and want to know the correct Mehr amount under the Sunnah and Pakistani law, contact our office on WhatsApp for confidential guidance.
Need Personal Guidance?
